محکمہ ابتدائی و
ثانوی تعلیم صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسکولوں میں اساتذہ کی مختلف اسامیوں
کے لیے NTS ٹسٹ کے ذریعے بھرتیوں کا عمل اسی ماہ
کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا۔نیشنل ٹسٹنگ سروس نے اُمیدواروں کےسکول وائز پرووژنل
میرٹ لسٹ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے ہیں جس کے ذریعے اُمیدوار نہ صرف ایک اسکول میں اپنی پوزیشن ملاحظہ کر سکتا ہے بلکہ
میرٹ لسٹ میں موجود دیگر اُمیدواروں کے اسکور سے اپنے اسکور کا موازنہ بھی کرسکتا
ہے۔
یونین کونسل بر پورن کے 2 وِلیج کونسلوں میں کُل
17 پرائمری سکول ہیں جن میں سے اس مرتبہ 14 اسکولوں میں پرائمری سکول ٹیچر (BPS-12) کی 19 اسامیوں کو مُشتہر کیا گیا تھا۔محکمہ ابتدائی
و ثانوی تعلیم کے بھرتی کے قوانین کے مطابق پرائمری سکول ٹیچر کی اسامی پر تقرری
اُسی یونین کونسل کے اُمیدواروں میں سے میرٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس میں سکول
واقع ہوتا ہے۔ یونین کونسل بر پورن کی مذکورہ 19 اسامیوں کے لیے لگ بھگ 150
اُمیدواروں نے درخواستیں جمع کیں اور نیشنل ٹسٹنگ سروس کے زیر اہتمام منعقدہ
اسکریننگ ٹسٹ میں شامل ہوئے۔ اگر ہر سکول کی اسامی/اسامیوں کے لیے درخواستیں جمع
کرنے والو ں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو بڑی دلچسپ اور حیران کُن صورتحال سامنے
آتی ہے۔ یونین کونسل بر پورن کے مذکورہ 14
اسکولوں میں سب سے زیادہ گورنمنٹ پرائمری
سکول ٹووا پورن میں 5، گورنمنٹ ڈھیرئی پورن میں 2 جبکہ باقی 12 اسکولوں میں سے ہر
ایک میں 1، 1 اسامی مشتہر کی گئی تھی۔ جیسا کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے ، ایک سے
زیادہ اسامیوں والا اسکول اس سلسلے میں سب اُمیدواروں کے لیے پُر کشش ہوتا ہے ۔
چنانچہ عموماً ایسے اسکول میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آتا ہے اور اس کے لیے زیادہ
سے زیادہ اُمیدوار درخواستیں جمع کرتے ہیں۔ پالیسی کے مطابق ہر امیدوار زیادہ سے
زیادہ 5 اسکولوں کے لیے درخواست جمع کرسکتا ہے۔ بر پورن میں GPS ٹووا پورن بھی اس لحاظ سے تمام
اُمیدواروں کی توجہ کا مرکز رہا کیونکہ اس میں ایک،دو نہیں بلکہ کُل پانچ اسامیاں
دی گئی تھیں۔ یہ اسکول پورن تا چکیسر روڈ پر ٹووا کی چھوٹی سی مگر پُر رونق بستی
میں واقع ہے۔ طلباء کی تعداد 402 ہے جبکہ فی الوقت صرف 4 اساتذہ ہی موجود ہیں جس
کی وجہ سے یہاں پر پڑھائی کا معیار بھی بے حد خراب رہا ہے۔امیدواروں کی تعداد کی لحاظ سے GPS ٹووا پورن ٹاپ پر ہے۔
یہاں کی 5 اسامیوں کے لیے یونین کونسل سے
132 اُمیدوار میدان میں اُترے ہیں۔گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھیرئی پورن اس
فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جس کی 2 اسامیوں کے لیے 118 امیدواروں نے درخواستیں
جمع کی ہیں۔ فہرست میں اس کے بعد حیرت انگیز طور پرمرکزی اسکولوں کےبجائے ایسے اسکولوں کے نام پہلے آتے ہیں جو نسبتاً چھوٹے اور دُور دراز مقامات پر موجود ہیں جبکہ بر
پورن کے اہم ترین پرائمری اسکول سب سے آخر میں آتے ہیں جو کہ دلچسپ، حیران کُن
لیکن قابل غور امر ہے۔ نمبر 3 پر 72 اُمیدواروں کے ساتھ گورنمنٹ پرائمری سکول درڈ
پورن جبکہ نمبر 4 پر گورنمنٹ پرائمری سکول برابڑئ ہے جس کے لیے67 اُمیدوار میدان
میں موجود ہیں۔
![]() |
| جدول: برپورن کے مختلف پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی اسامیوں کے لیے امیدواروں کی تعداد کا جائزہ |
اس فہرست میں
سب سے دلچسپ صورتحال نمبر 5 کی ہے جہاں پر 63 اُمیدواروں کے ساتھ گورنمنٹ
پرائمری سکول کُوہ پورن موجود ہے۔ یاد رہے کُوہ یونین کونسل بر پورن کا سب سے دُور
افتادہ علاقہ ہے جو چکیسر روڈ پر ٹووا سے
ڈھائی گھنٹے کی پیدل مسافت پر شلخوسر کے پہاڑ کی دامن میں واقع ہے۔ یہ خوبصورت
گاؤں یونین کونسل کے باقی علاقے سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ اس تک رسائی کے لیے ایک ہی راستہ ٹووا سے
جاتا ہے جو گھنے جنگلوں سے گزرتا ہے۔ کوہ بر پورن کا سب سے بُلند ترین آباد مقام
بھی ہے۔ جنگلوں میں گھرے اس دور دراز علاقے کی مستقبل کو سنوارنے اور یہاں پر علم کی روشنی پھیلانے کے خواہاں 63
افراد کی تعداد انتہائی خوش آئند ہے ورنہ ماضی قریب میں عرصہ دراز سے فرائض کی
انجام دہی سے غفلت برتنے، من مانی کرنے اور اپنی جگہ "متبادل استاد"کو
بٹھانے کی پاداش میں اسی سکول کے ہیڈ ٹیچر کو 3 اسکیل کی تنزلی اور لاکھوں روپے
جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ GPS کوہ کے بعد فہرست میں
چھٹے نمبر پر اسی طرح کا ایک دور دراز علاقے بنج سنیلہ کا پرائمری سکول موجود ہے۔
یہاں کے نونہالوں کو علم کی روشنی سے فیضیاب کرنے کی تڑپ رکھنے والوں کی تعداد 56
ہے۔ واضح رہے کہ بنج سنیلہ جانے کے لیے بھی درڈ یا برابڑئ سے پیدل راستہ طے کرنا
پڑتا ہے۔

برپورن کے اہم ترین
اورمرکزی اسکول GPS سندوی کالونی، GPS سنیلہ
اور GPS فیضہ پورن بالترتیب 19، 24 اور 25 اُمیدواروں کے ساتھ سب سے آخر
میں موجود ہیں۔۔۔۔! سندوی بر پورن کا سب
سے بڑا گاؤں اور مرکزی مقام ہے۔ یہ ویلج کونسل سندوی کا مرکز بھی ہے جبکہ یہاں پر
گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سمیت3 گورنمنٹ پرائمری سکول اور 2 نجی اسکول بھی موجود
ہیں۔ سندوی کالونی کے اسکول میں 315 طلباء کےلیے 7 اساتذہ موجود ہیں جس کامطلب ہے
نئی تقرری کی صورت میں یہاں پر اساتذہ کی کل تعداد 8 ہو جائے گی۔ اس لحاظ سے یہاں
کے اساتذہ کو فرائض کی انجام دہی میں دیگر اسکولوں کے اساتذہ کے مقابلے میں نسبتاً
زیادہ دُشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے
گاکیونکہ ہر استاد کے حصے میں ایک ہی جماعت آئے گی یاروزانہ چند ہی پیریڈ۔لگتا ہے اسکولوں کے انتخاب میں اس
پہلو کی طرف بہت ہی کم امیدواروں نے دھیان دیا ہوگا۔ اسی طرح سنیلہ
علاقے کا دوسرا بڑا گاؤں ہے جو کہ اپنے ولیج کونسل کا مرکز بھی ہے۔ یہاں پر 294
طلباء کےلیے 6 اور نئی تقرری کی صورت میں 7 اساتذہ دستیاب ہوں گے۔ بنج سنیلہ اور
راگیشوم جیسی سنگلاخ پہاڑیوں میں واقع اسکولوں کا امیدواروں کی تعداد کے لحاظ سے سنیلہ
سے بازی لے جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ فیضہ کا شمار بھی بر پورن کے اہم ترین مقامات
میں ہوتا ہے۔یہاں پر بھی ایک گورنمنٹ ہائی
اسکول اور ایک نجی تعلیمی ادارہ موجود ہے۔
یہاں کا پرائمری اسکول علاقے کا سب سے
قدیم ترین اسکول ہے جس کی بنیاد 1969ء میں پڑی۔ اسی اسکول سے سیکڑوں طلباءنے اپنی
ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے جن میں سے بہت
سوں نے بعدا زاں زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اسکول میں
طلباء کی تعداد 280 ہے جن کے لیے 6 اساتذہ
موجود ہیں جبکہ ایک نئی تقرری بھی ہونی
ہے۔ ایسے تاریخی ادارے میں تدریس کو
اساتذہ اپنے لیے بڑی اعزاز سمجھتے ہیں ۔جبھی تو 150:25 کی نسبت حیران کن معلوم
ہوتی ہے۔ شُنید ہے کہ ٹاپ اسکولوں میں اور GPS کوہ پورن کے63 امیدواروں میں سے بھی اکثریت کا
تعلق فیضہ، سندوی اور سنیلہ ہی سے ہے۔
یہ ساری بحث اپنی جگہ ، اسکول چاہے دور دراز علاقے میں ہو
یا نزدیک اور مرکزی مقام پر، اُمیدوار کی جہاں بھی تقرری ہو جائے ، وہ "معمارِ
قوم" کہلائے گا اور اُمید کی جانی چاہیے کہ NTS ٹسٹ کے ذریعے
منتخب ہونے والے اساتذہ دستیاب امیدواروں میں سے یقینی طور پر سب سے موزوں ترین
اور اپنے اسکول اور علاقے کے بچوں کےلیے سب سےبہترین انتخاب ہوں گے اور انشاء اللہ انھی کی بدولت آنے والے برسوں
میں سب حقیقی تبدیلی دیکھ لیں گے۔
